نجف اشرف میں موجود حوزہ علمیہ

 نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کی بنیاد استاد الفقہاء و المراجع شیخ طوسی نے رکھی اور اس کے بعد سے اب تک لاکھوں علماء فضلاء نے حضرت امیر المومنین(ع) کے جوار میں قائم حوزہ علمیہ سے فیض حاصل کیا او رپوری دنیا میں اسلام کی سربلندی کے لیے کام کیا، اسی حوزہ علمیہ نے لاکھوں فقہاء، بڑے بڑے فلاسفہ، متکلمین، مناظرین، مفسرین، ادباء، اہلِ لغت اورعلماء کرام کو اپنی گود میں پروان چڑھایا اور ا نہیں علم و عرفان کے زیور سے مزین کیا۔

یہ حوزہ علمیہ ہی اسلامی میراث کا مرکز اور علوم اہل بیت(ع) کا اہم مصدر ہے، پوری دنیا کے لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی حوزہ علمیہ سے جاری ہونے والے علمی چشموں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

اللہ تعالی نے اس حوزہ کے کاندھوں پر دین و عقیدہ کی حفاظت کی ذمہ داری ڈالی ہے اور اسی کو یہ سماوی امانت بھی سونپی ہے۔

حوزہ علمیہ کی ابتدا

سید مرتضی کی وفات سن436ہجری کے بعد شیخ طوسی شیعیان عالم کے پیشوا منتخب ہوئے اور 12سال تک بغداد میں شیعت کی رہبری کی ذمہ داریاں سنبھالی رکھیں۔

          سن447ہجری میں جب طغرل بیک سلجوقی نے بغداد پر حملہ کیا اور شیعہ آبادی والے علاقوں کو نیست و نابود کردیا اس دوران 451ہجری میں شیخ طوسیؒ کی ذاتی لائبریری کو جلا دیا گیاجبکہ اس سے پہلے بھی کئی بار آپ کی لائبریری کو نذرآتش کیا گیا تھا،اس لائبریری میں آپ  کی ذاتی کتابیں،خطی نسخے اور دیگر قیمتی کتب شامل تھیں شیخ طوسی ؒنے شیعہ علمی میراث کو محفوظ رکھنیکی خاطر ایک بار پھر ہجرت کا ارادہ کیا اور اب کی مرتبہ انہوں نے نجف اشرف کا رخ کیا۔

          سن 448ھ میں شیخ طوسیؒ کے نجف اشرف تشریف لانے پر  اہل نجف نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔

نجف کا ہزار سالہ حوزہ علمیہ

          نجف اشرف اس زمانے میں ایک گاؤں کی حیثیت رکھتا تھا جس میں صرف امیر المومنین(ع) کی قبر کے زائرین کی آمد و رفت تھی۔

          شیخ طوسی نے اس شہر میں ایک جدید حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی جو ایک ہزار سال گزرنے کے باوجود  آج بھی اپنے علمی رعب ودبدبہ اور ہیبت کے ساتھ قائم ودائم ہے اور  دیگر علمی مراکز کی علمی تشنگی کو دور کرنے کا سبب بنا ہوا ہے۔

          شیخ طوسی کے علمی آثار کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ خود ایک عہد ساز شخصیت تھے ان کے شاگردوں میں تین سو سے زائد مجتہدین شامل تھے یہاں تک کہ بعض اہل سنت دانشور بھی ان سے کسب فیض کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔

شیخ طوسی 22 محرم سن 460ہجری میں 76سالہ پُربرکت زندگی گزارنے کے بعد اپنے رفیق اعلی سے جا ملے۔

          شیخ طوسی ؒ کو ان کی وصیت کے مطابق ان کے گھر میں دفن کیا گیا اور بعد میں اس جگہ کو مسجد میں تبدیل کر دیاگیا۔اب اس مسجدکا نام‘‘مسجد شیخ طوسی‘‘ ہے جو حرم مطہر کے شمال میں شارع طوسی کی ابتداء میں واقع ہے۔

نجف اشرف میں موجودہ مراجع تقلید

آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی(مدظلہ العالی)

مرجع الدینی الاعلی آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی(مدظلہ العالی) 9ربیع الاول 1349ہجری کو مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق حسینی سادات سے ہے جو صفوی دور حکومت میں ایران کے شہر اصفہان میں آباد ہوئے۔ سلطان حسین صفوی نے آپ کے دادا کو صوبہ سیستان میں شیخ الاسلام کے منصب پر فائز کیا اس بناء پر آپ کے  خاندان نے وہیں سکونت اختیار کر لی تھی۔

آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی(مدظلہ العالی) نے ابتدائی علوم کی تکمیل کے بعد 1360ھ میں اپنے والد کے حکم پر حوزوی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور بعض ادبی کتب ادیب نیشا پوری اور دیگر ماہرین فن سے پڑھیں۔ سن 1368ھ میں قم کی طرف ہجرت کی اور وہاں فقہ اور اصول فقہ کی تعلیم کے لئے آیت اللہ العظمی بروجردی کے درس میں شرکت کی۔

1371ھ  میں نجف اشرف ہجر ت کی اور وہاں آیت اللہ خوئی، شیخ حسین حلی، آیت اللہ محسن حکیم اور آیت اللہ شاھرودی جیسے بزرگان اور نابغہ روز گار شخصیات سے کسبِ فیض کیا۔

1380ھ  میں آیت اللہ خوئی و آیت اللہ حلی نے انہیں درجہ اجتھاد کی سند عطا کی اسی طرح آغا بزرگ تہرانی نے بھی علم رجال و حدیث میں انکے علمی تبحر کی گواہی دی۔ آیت اللہ سید سیستانی نے 1381ہجری میں درس خارج پڑھانے کی ابتداء کی۔

آیت اللہ العظمی سید محمد سعید حکیم(مدظلہ العالی)

آیت اللہ سید محمد سعید حکیم 8ذی القعدہ 1354ھ نجف اشرف میں پیدا ہوئے آپ آیت اللہ العظمی محسن الحکیم کے بڑے نواسے تھے۔

بچپن سے ہی آپ اپنے والد آیت اللہ سید محمد علی حکیم کی تربیت میں پروان چڑھے۔ آپ نے اپنے نانا اور ماموں سے(آیت اللہ محسن حکیم، و آیت اللہ یوسف حکیم) اور اسی طرح آیت اللہ خوئی، شیخ حسین حلی، سید علی بحر العلوم، سے علمی استفادہ کیا اور سن 1388ھ سے فقہ اور اصول الفقہ کے درس خارج  پڑھانے میں مصروف ہیں۔

سن1403ہجری سے لے کر 1411ھ تک آپ،اپنے والد، بھائی، بیٹے اور حکیم خاندان کے دیگر افرادکے ہمراہ حزب بعث کی قید میں رہے جن میں سے بہت سارے افراد نے قید ہی میں درجہ شہادت حاصل کیا۔

آیت اللہ العظمی شیخ محمد اسحاق فیاض(مدظلہ العالی)

آیت اللہ شیخ اسحاق فیاض(مدظلہ العالی) 1930ء کو افغانستان کے صوبہ غزنہ میں ایک مومن کسان کے گھر پیدا ہوئے۔

آیت اللہ اسحاق فیاض(مدظلہ العالی) نے مقدمات کی تعلیم افغانستان ہی میں حاصل کی اور اپنے والد کی وفات کے بعد مشہد مقدس ہجرت کی اور ادیب نیشاپوری، سید یونس ارد بیلی اور شیخ کفاہی جیسے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کی علمی تڑپ نے آپ کو چین سے نہ بیٹھنے دیا آپ علامہ مدرس افغانی کے تعاون سے نجف اشرف تشریف لائے  اور باب شہر علم کے دستر خوان سے اپنی علمی پیاس بجھائی۔ میرزا علی فلسفی شہید،سید اسد اللہ مدنی اور شیخ مجتبیٰ لنکرانی جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا آپ نے پچیس سال تک بغیر کسی تعطل کے آیت اللہ خوئی کے بحث خارج میں شرکت کی اور آپ کا شماران کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا تھا۔

آیت اللہ فیاض نے 1978 ء سے بحث خارج کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔

آیت اللہ العظمٰی شیخ بشیر حسین نجفی(مدظلہ العالی)

آیت اللہ شیخ بشیر حسین نجفی سن 1942ء ‘‘جالندھر’’ میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام صادق علی اور ان کے دادا کا نام محمد ابراہیم تھا جو اپنے دور کی سماجی و علمی شخصیات تھیں، تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان کی طرف ہجرت کر گئے اور لاہور میں مقیم ہوئے، لاہور ہی میں آپ کے والد اور دادا کا انتقال ہوا، جب کہ آپ نے انکی راہ کو آگے بڑھایا۔

آیت اللہ بشیر نے ابتدائی تعلیم اپنے دادا، والداور اپنے چچا خادم حسین اور شیخ الجامعہ آیت اللہ اختر عباس نجفیؒ کے حضور زانوئے تلمذ طے کیا، سن 1965ء میں نجف اشرف کی طرف ہجرت کی، نجف اشرف میں آیت اللہ شیخ محمد کاظم تبریزی، آیت اللہ العظمی سید محمد روحانی اور آیت اللہ العظمی سید خوئی جیسی بلند پایہ شخصیات سے علمی فیض حاصل کیا۔ ابتداء ہی سے آپ نے تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا نیز آپ نے جامعۃ المنتظر لاہور میں بھی تدریس کی ذمہ داری انجام دی۔ آپ نے 1977ء سے درس خارج کا آغاز کیا آپ کی علمی اور سماجی خدمات بے شمار ہیں۔