نجف اشرف كى تاريخ

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔

نجف اشرف علم کا کعبہ، دینی مراکز کی اصل  اورعقول  کا نقطہ اجتماع ہے۔

دنیا میں جہاں بہت سے بڑے بڑے مرکزی شہر اپنی خوبصورتی، حسن و جمال، زیب و زینت اور شان و شوکت کی وجہ سے مشہور ہیں وہاں نجف اشرف علومِ اہلبیت(ع) کا مرکز ہونے کے حوالے سے پوری دنیا میں شہرت رکھتا ہے، شیعہ امامیہ کے نزدیک نجف اشرف تقلید کا مصدرشمار ہوتا ہے اور پوری دنیا میں موجود شیعوں کے دل نجف اشرف کے ساتھ دھرکتے ہیں اور ہر شیعہ کے دل میں پیدائشی طور پر نجف اشرف کی محبت اور ولاء پروان چڑھتی اور عروج و معراج کی منزلوں پر قائم رہتی ہے۔

نجف اشرف عراق کے اٹھارہ صوبوں میں سے ایک ہے اور ان کا مرکز نجف اشرف کا شہر ہے اس شہر کے ہر گوشہ میں دینی ثقافت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

نجف اشرف عراق کے دارالحکومت بغداد سے تقریبا 116کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سطح سمندر سے اس کی بلندی 70میٹر ہے نجف اشرف کی شمالی اور شمال مشرقی سرحد کربلا سے ملتی ہے جبکہ کربلا کا شہر نجف سے تقریبا 80کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نجف اشرف کے جنوب اور مغرب میں خشک بحرِ نجف ہے۔

عصر حاضر میں نجف  وہ شہر ہے جو  کوفہ کے ساتھ ملحق ہے پہلے پہل  نجف نامی ایک قدیم عربی شہر مناذرہ کے قریب بھی ہوا کرتا تھا کہ جو حیرہ کے بادشاہوں کے زیر تسلط تھا۔ اسلامی فتوحات سے پہلے نجف میں صرف عیسائیوں کی عبادت گاہیں ہوا کرتی تھی البتہ جب سے حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی آخری آرام گاہ نجف اشرف قرار پائی ہے اس وقت سے نجف  اشرف کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی ہی برکت سے نجف اشرف ایک مقدس شہر کے طور پر پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اور یہ بھی حضرت علی علیہ السلام کے مبارک وجود کی ہی برکت ہے کہ نجف عرصہ دراز سے دینی مرجعیت اور اہل علم کا مرکز  ہے۔ نجف اشرف میں ہی کوفہ یونیورسٹی بھی ہے کہ جو عراق کی اہم ترین یونیورسٹی شمار ہوتی ہے۔

نجف عربی کا لفظ ہے کہ جس سے مراد ایسی بلند جگہ ہے کہ جہاں پانی نہ پہنچتا ہو اور وہ جگہ پانی اور ساتھ والے مناطق  کے لیے بند کا کام دے اور پانی کو ساتھ والے علاقوں میں نہ پہنچنے دے۔ عربی لغت میں نجف ٹیلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

نجف کے لیے تاریخ اور اہل بیت(ع) سے مروی روایات میں متعدد نام استعمال ہوئے ہیں کہ جن میں مشہور درج ذیل ہیں:

بانقیا، جودی، ربوہ، ظھر الکوفہ، غربی، لسان، طور وغیرہ …

روایات میں نجف کے لیے زیادہ تر جو نام استعمال ہوئے ہے وہ نجف، غری اور مشہد ہیں۔

ایک روایت میں ہے نجف ایک بہت بڑا پہاڑ تھا اور اسی پہاڑ کے بارے میں حضرت نوح علیہ السلام  کے نافرمان بیٹے نے کہا تھا کہ میں اس پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا اور طوفان سے محفوظ رہوں گا لیکن خدا کے حکم سے یہ پہاڑ ٹوٹ گیا اور باریک ریت میں تبدیل ہو گیا۔ نجف کے ساتھ موجود سمندر کو ''نے'' کہا جاتا تھا لیکن بعد میں یہ سمندر خشک ہو گیا تو اسے ''نے جف'' کہا جانے لگا۔ عربی میں جف خشک کو کہتے ہیں اسی وجہ سے "نے" کے خشک  ہونے کے بعد اسے "نے جف" کہا جانے لگا یعنی خشک سمندر اور بعد میں یہی "نے جف" نجف میں تبدیل ہو گیا۔

مسلمانوں کے نزدیک نجف ایک مقدس شہر ہے خاص طور پر شیعہ مسلمان اس شہر کو بہت ہی احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس شہر میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور بہت سے انبیاءعلیھم السلام دفن ہیں۔

نجف ایک بہت بڑا شہر ہے کہ جو ایک وسیع ریگستان کے بلند حصہ پر واقع ہے نجف کے شمال مشرقی حصہ میں گنبدوں اور قبور پر مشتمل وسیع و عریض قبرستان ہے، جبکہ مغربی حصہ میں خشک سمندر ہے۔ نجف آنے والے کو دور سے ہی حضرت علی علیہ السلام کے روضہ مبارک کا گنبد نظر آتا ہے حضرت علی علیہ السلام کا مرقد پرانے شہر کے درمیان واقع ہے پرانے شہر میں ہی حوزہ علمیہ، بہت سی لائبریریاں اور کتابوں کی دکانیں ہیں اور یہیں پر ہی سوق کبیر نامی قدیمی بازار بھی ہے کہ جو شہر کی پرانی حدود کے اعتبار سے شہر کی بیرونی مشرقی دیوار سے شروع ہو کر حرم سے جا ملتا ہے اس بازار میں سونے چاندی کے زیورات، جوہرات، کپڑے اور مٹھاہیوں کی دکانیں ہیں۔