صحن فاطمہ الزہراء(ع)

صحن فاطمہ الزہراء(ع) کے منصوبہ پہ ایک نظر

صحن فاطمہ الزہراء(ع)

صحن فاطمہ زہراء(ع) کا منصوبہ عراق میں موجود تمام مقدس مقامات اور حرموں میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں سب سے بڑا توسیعی و تعمیری منصوبہ ہے۔ امید ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ دو سالوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ "لجنة اعمار العتبات المقدسة في العراق" نامی کمیٹی رضاکارانہ طور پر بلا معاوضہ اس منصوبے پہ کام کر رہی ہے اور عراق کے محکمہ اوقاف (ديوان الوقف الشيعي) کے تعاون سے اس کی تعمیر میں مشغول ہے۔ اس منصوبہ کے تنفیذی عمل میں عراق اور ایران کے ماہر ترین تعمیراتی انجینیئرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

عاشقانِ حق کی منزل مقصود 

مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے کروڑوں زائرین ہر سال حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی زیارت کے لیے نجف اشرف آتے ہیں اور امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری دیتے ہیں۔ پوری دنیا سے مولا کی زیارت کے لیے آنے والے عاشقانِ حق کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور عام دنوں میں اور خاص طور پر مختلف دینی مناسبات پر زائرین کی کثرت کی وجہ سے حرم امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) کی عمارت آنے والے لاکھوں کروڑوں زائرین کے لیے کم پڑ جاتی ہے۔ لہذا زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے حرم مبارک کے ادارہ نے حرم کے دیگر توسیع و تعمیر کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ عراق میں موجود تمام مقدس مقامات اور حرموں میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں سب سے بڑا توسیعی و تعمیری منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا کہ جسے "صحن فاطمۃ الزہراء(ع)"  کا نام دیا گيا۔

صحن فاطمہ الزہراء(ع) کیا ہے؟ 

باب فرج والی دیوار سے جناب صافی صفا کے مزار تک ایک وسیع رقبے پر روضہ مبارک کا بہت بڑا توسیعی منصوبہ جاری ہے، روضہ مبارک کی فصیل نما مغربی دیوار سے لے کر جناب صافی صفا کے مزار تک پھیلے ہوئے اس توسیع و تعمیر کے منصوبے کو صحن فاطمہ زہراء(ع) کا نام دیا گیا ہے، اس صحن کی لمبائی تقریبا 400میٹر اور چوڑائی 130میٹر ہے۔ صحن فاطمہ زہراء(ع) کے منصوبے پہ 2007ء میں کام شروع کر دیا گیا تھا جو بغیر کسی وقفے کے اب تک جاری ہے صحن فاطمہ زہراء(ع) کے منصوبے میں زائرین کے لیے بہت بڑے بڑے متعدد ہال، متعدد صحن، لائبریری، عجائب گھر، اداری دفاتر  اور  جدید وضو خانے وغیرہ  شامل ہیں۔

صحن فاطمہ زہراء(ع) کی تعمیر کا منصوبہ ایک بہت بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے کہ جو تقریبا 61,000 مربع میٹر رقبہ پہ مشتمل ہے۔ صحن فاطمہ زہراء(ع) کا رقبہ حرم کی پرانی عمارت کے رقبہ سے تقریبا تین گنا زیادہ بڑا ہے۔ اس نئے صحن کے منصوبہ میں ایک بہت بڑی 4منزلہ عمارت بھی شامل ہے کہ جس میں نقشہ کے مطابق زائرین کے لیے بڑے بڑے ہال موجود ہیں زائرین نماز، دعا، تلاوت اور دیگر عبادتی امور کے لیے ان ہالوں کو استعمال کریں گے۔  

صحن فاطمہ زہراء(ع) میں بڑے بڑے سبزہ زار بھی ہوں گے جو اسے ماحول دوست بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کریں گے۔

صحن فاطمہ زہراء(ع) حرم مبارک امام علی(ع) کے مغربی حصہ میں واقع ہے اور مرقد ‏صافی الصفا(ع) اور مقام امام زين العابدين(ع) سے لے کر حرم کی موجودہ مغربی دیوار تک پھیلا ہوا ہے۔

صحن فاطمہ زہراء(ع) کے منصوبہ کے ضمن میں جو عمارتیں بنائی جا رہی ہیں ان میں حرم کا عجائب گھر، لائبریری اور حرم کے مختلف دفاتر کی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ سن2003ء کے بعد دینی علوم کے حصول کے لیے عراق اور دنیا کے ہر کونے سے تشنگانِ علم نے نجف اشرف کا رخ کرنا شروع کیا جس سے اب حوزہ علمیہ نجف اشرف کی پرانی رونق واپس آ گئی ہے بلکہ دینی طلاب کی جتنی زیادہ تعداد اس وقت حوزہ علمیہ نجف اشرف میں موجود ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحن فاطمہ زہراء(ع) کے عمارتی حصہ میں حوزوی علوم کی درس وتدریس کے لیے بھی متعدد ہال اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

صحن فاطمہ زہراء(ع) کا سب سے اہم جزء زائرین کے لیے مختص کردہ حصہ ہے کہ جو پورے منصوبے کا 50% بنتا ہے اس حصہ میں عبادتی امور کی ادائيگی کے لیے متعدد ہال، بہت بڑی مسجد اور متعدد وضو خانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں زائرین اور خدام کے لیے مضیف اور ریسٹورنٹ بھی  ہے۔

منصوبہ کی ٹیکنیکل و تعمیراتی خصوصیات 

صحن فاطمہ زہراء(ع) کا منصوبہ اسلامی طرزِ تعمیر اور جدید فنِ تعمیر کے امتزاج کا شاہکار ہے اس منصوبہ کے ہر حصہ میں جہاں خالص اسلامی اور نجفی طرزِ تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے وہاں یہ پورا منصوبہ ہر طرح کی جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی  سے بھی آراستہ ہے۔ ہر جگہ برقی سیڑھیاں اور لفٹس موجود ہیں، موسم کو معتدل رکھنے کے لیے جدید ترین مشینری کو بھی نصب کیا جائے گا۔ زائرین کی سہولت اور آرام کے حوالے سے شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو کہ جو اس منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔

زائرین کے لیے مختص کردہ حصہ کے ساتھ ہی حرم کا عجائب گھر ہے چھ منزلوں پر مشتمل اس عجائب گھر کی ہر منزل کا رقبہ 3000 مربع میٹر سے زیادہ ہے اس عجائب گھر میں حرم کے نودرات کو رکھا جائے گا کہ جن میں سے اکثر کی عمر صدیوں پر مشتمل ہے۔

عجائب گھر کی عمارت کے بالکل سامنے ایک پانچ منزلہ عمارت ہے کہ جو حرم کی لائبریری اور بعض اداری دفاتر کے لیے مختص ہے۔

اس عمارت کے نیچے گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے جگہ ہے کہ جہاں تک پہنچنے کے لیے ایک ٹنل بنائی گئی ہے۔

صحن فاطمہ زہراء(ع) کے ساتھ ساتھ بھی بہت سی عمارتوں کو تعمیر کیا جائے گا کہ جو حرم اور زائرین کی خدمت کے لیے استعمال ہوں گی۔ اس منصوبہ کا تعمیری کام انشاء اللہ آئندہ ایک دو سالوں میں مکمل ہو جائے گا۔

ملحقہ منصوبے 

زائرین کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے روضہ مبارک کی وسعت کم پڑتی جا رہی ہے خاص طور پر اہل بیت سے مربوط مناسبات کے موقع پر دسیوں لاکھ زائرین امیر المومنین کی زیارت کے لیے آتے ہیں لہذا اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے روضہ مبارک کے ادارے نے گزشتہ کئی سال سے روضہ مبارک کی توسیع و تعمیرِنو کے متعدد منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن میں سے بعض کو مکمل کرنے کے بعد زائرین کے لیے کھول دیا گیا ہے اور بعض ابھی تک تعمیری مراحل سے گزر رہے ہیں ان میں سے ایک اہم منصوبہ حرم مبارک کی پرانی بیرونی دیوار کے شمالی، جنوبی اور مشرقی طرف 60میٹر  تک کے حصہ کو حرم میں شامل کرنا ہے روضہ مبارک کی توسیع و تعمیر کے  اس منصوبے سے  اپنے قارئین کو آگاہ کرنے کے لیےاس پہ  ایک نظر ڈالتے ہیں:

شمالی طرف : روضہ مبارک کے توسیعی منصوبے کے تحت چوڑائی میں روضہ مبارک کی شمالی دیوار سے لے کر مسجد طوسی تک کا سارا حصہ اور لمبائی میں شارع زین العابدین(ع) کی ابتداء میں واقع مسجد سقایہ سے لے کر مقبرۃ الجواہری اور شارع جواہری تک کے سارے ایریا کو روضہ مبارک میں شامل کر لیا گیا ہے یہاں 60میٹر × 200میٹر رقبہ پر مشتمل صحن بنا کر اسے صحن امام حسین(ع) کا نام دیا گیا ہے، اس صحن میں زیر زمین وسیع ہال بھی بنائے گئے ہیں کہ جو اکثر زائرین کے آرام کرنے اور دوسری عبادات کی خاطر استعمال کئے جاتے ہیں، صحن امام حسین(ع) کا فرش خوبصورت سنگ مرمر بنایا گیا  ہے اور زائرین کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھنے کے لیے پورا صحن خوبصورت خیمہ نما چھت سے ڈھکا ہوا ہے، صحن امام حسین(ع) میں ہر طرف زائرین کے لیے قالین بچھے ہوئے ہیں۔

مشرقی طرف : روضہ مبارک کی مشرقی دیوار سے سوق کبیر نامی بازار تک اور لمبائی میں مشرقی دیوار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کے اس حصے کو صحن امام حسین (ع) کا نام دیا گیا ہے ،اس صحن کو کچھ عرصہ پہلے ہی روضہ مبارک میں شامل کیا گیا ہے۔

جنوبی طرف: روضہ مبارک کی جنوبی دیوار والی طرف توسیع اور ایک نئے صحن کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

روضہ مبارک سے متصل ایریا کو توسیعی منصوبوں میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ روضہ مبارک کا ادارہ حرم کے قریبی ایریا میں بہت سی عمارتوں اور خالی پالاٹس کو بھی مسلسل خرید رہا ہے حرم سے باہر نئی خریدی گئی عمارتوں میں فی الحال روضہ مبارک کے ان شعبوں کو منتقل کیا جا رہا ہے کہ جن کا براہ راست زائرین سے تعلق نہیں ہے۔

تکمیل و افتتاح کا انتظار

حضرت امیرامومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے حرم مبارک میں زائرین کی خدمت کے لیے عراق میں موجود تمام مقدس مقامات میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں سب سے بڑے تعمیری منصوبے کی تکمیل کا ہمیں شدت سے انتظار ہے تاکہ ہم سب علم و علماء کے شہر میں اس منصوبے کے افتتاح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔