علي(ع) جنگ بدر كے بے نظير جانباز

 جنگ بدر ميں حضرت على (ع) كى شخصيت دو وجہ سے نماياں رہى

جنگ فرد بفرد : جس وقت مشركين كے لشكر سے عتبہ ' شيبہ اور وليد جيسے تين نامور دليروں نے ميدان جنگ ميں اتر كر سپاہ اسلام كو للكارا تو رسول خدا(ص) كے حكم پر حضرت عبيدہ بن حارث ' حمزہ بن عبدالمطلب اور على بن ابى طالب (ع) ان سے جنگ كرنے كے لئے ميدان جنگ مےں اتر آئے  چنانچہ حضرت عبيدہ عتبہ سے ' حضرت حمزہ ، شيبہ سے اور حضرت على (ع) وليد سے برسر پيكار ہو گئے

مورخين كا بيان ہے : حضرت على (ع) نے پہلے ہى وار ميں دشمن كو قتل كر ڈالا ' اس كے بعد آپ (ع) حضرت حمزہ كى مدد كے لئے پہنچے اور ان كے حريف كے بھى دم شمشير سے دو ٹكڑے كرديئے اس كے بعد يہ دونوں بزرگ حضرت عبيدہ كى جانب مدد كى غرض سے بڑھے اور ان كے حريف كو بھى ہلاك كر ڈالا

اس طرح آپ(ع) لشكر مشركين كے تينوں نامور پہلوانوں كے قتل ميں شريك رہے _ چنانچہ آپ نے معاويہ كو جو خط لكھا تھا اس ميں تحرير فرمايا كہ وہ تلوار جس سے ميں نے ايك ہى دن ميں تيرے دادا ( عتبہ ) ' تيرے ماموں ( وليد ) ' تيرے بھائي ( حنظلہ ) اور تيرے چچا ( شيبہ ) كو قتل كيا تھا اب بھى ميرے پاس ہے

اجتماعى و عمومى جنگ_ مورخين نے لكھا ہے كہ جنگ بدر ميں لشكر مشركين كے ستر (70)

سپاہى مارے گئے جن ميں ابوجہل ' اميہ بن خلف ' نصر بن حارث و ... اور ديگر سر برآوردہ سرداران كفار شامل تھے ' ان ميں سے ستائيس سے پينتيس كے درميان حضرت على (ع) كى شمشير كے ذريعہ لقمہ اجل ہوئے ، اس كے علاوہ بھى دوسروں كے قتل ميں بھى آپ كى شمشير نے جو ہر دكھائے _ چنانچہ اس وجہ سے قريش آپ كو '' سرخ موت ''كہنے لگے كيونكہ اس جنگ ميں انھيں ذلت و خوارى اميرالمومنين حضرت على (ع) كے ہاتھوں نصيب ہوئي تھى